ہیوبرمین لیب پوڈکاسٹ: ڈاکٹر مارک بریکٹ کے ساتھ جذباتی ذہانت اور جذبات کو سمجھنے پر ایک گہری گفتگو

ہیوبرمین لیب پوڈکاسٹ: ڈاکٹر مارک بریکٹ کے ساتھ جذباتی ذہانت اور جذبات کو سمجھنے پر ایک گہری گفتگو

ہیوبرمین لیب کے اس پوڈکاسٹ میں، اینڈریو ہیوبرمین نے ییل یونیورسٹی (Yale University) کے پروفیسر اور جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) کے ماہر ڈاکٹر مارک بریکٹ سے گفتگو کی۔ یہ گفتگو اس بات پر مرکوز تھی کہ جذبات ہماری زندگی پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں، ہم انہیں کیسے سمجھ سکتے ہیں، اور ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے ہم اپنے جذبات کو کیسے ریگولیٹ (Regulate) کر سکتے ہیں۔ ذیل میں اس پوری ویڈیو کا تفصیلی احوال بیان کیا گیا ہے۔

جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) کیا ہے؟

ڈاکٹر مارک بریکٹ نے گفتگو کا آغاز جذباتی ذہانت کی تعریف سے کیا، جس کے مطابق یہ صرف اچھا برتاؤ کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اور دوسروں کے جذبات کے بارے میں منطق استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جذبات ہمارے ساتھ پیدائش سے لے کر موت تک رہتے ہیں، لہذا انہیں سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جسمانی صحت کا خیال رکھنا۔ اس کو سمجھنے کے لیے انہوں نے "RULER" فریم ورک پیش کیا، جو کہ پانچ مہارتوں کا مجموعہ ہے۔

RULER فریم ورک: جذبات کو سمجھنے کا طریقہ

ڈاکٹر بریکٹ نے اپنی تحقیق پر مبنی ایک نظام متعارف کرایا جسے RULER کہا جاتا ہے، جو جذبات کے ساتھ نمٹنے کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتا ہے:

  • R (Recognizing): اپنے اور دوسروں کے جذبات کو پہچاننا (چہرے کے تاثرات اور باڈی لینگویج کے ذریعے)۔
  • U (Understanding): جذبات کی وجہ اور ان کے نتائج کو سمجھنا۔
  • L (Labeling): جذبات کو درست نام دینا (مثلاً اداسی اور مایوسی میں فرق کرنا)۔
  • E (Expressing): جذبات کا مناسب طریقے سے اور صحیح وقت پر اظہار کرنا۔
  • R (Regulating): جذبات کو کنٹرول کرنے اور سنبھالنے کی حکمت عملی اپنانا۔

الفاظ کی اہمیت: "میں ٹھیک ہوں" کافی نہیں ہے

گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمارے پاس اپنے جذبات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا ذخیرہ (Vocabulary) ہونا بہت ضروری ہے۔ اکثر لوگ صرف یہ کہتے ہیں کہ وہ "اسٹریس" (Stress) میں ہیں، لیکن جب کریدا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ اصل میں خوفزدہ، مایوس یا حسد (Envy) کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر بریکٹ نے بتایا کہ جب تک ہم اپنے جذبات کو صحیح "لیبل" یا نام نہیں دیں گے، ہم ان کے حل کے لیے صحیح حکمت عملی نہیں اپنا سکیں گے۔

موڈ میٹر (Mood Meter): جذبات کی درجہ بندی

ڈاکٹر بریکٹ نے "موڈ میٹر" کا تصور پیش کیا جو جذبات کو دو پیمانوں پر ماپتا ہے: توانائی (Energy) اور خوشگواریت (Pleasantness)۔ اس میٹر کے چار حصے (Quadrants) ہیں:

  • پیلا (Yellow): زیادہ توانائی اور خوشگوار (مثلاً خوشی، جوش)۔
  • سبز (Green): کم توانائی لیکن خوشگوار (مثلاً سکون، اطمینان)۔
  • لال (Red): زیادہ توانائی لیکن ناخوشگوار (مثلاً غصہ، گھبراہٹ)۔
  • نیلا (Blue): کم توانائی اور ناخوشگوار (مثلاً اداسی، افسردگی)۔

انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی جذبہ "برا" نہیں ہوتا؛ ہر جذبہ ایک سگنل یا معلومات ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے اندر اور باہر کیا ہو رہا ہے۔

جذبات کو محسوس کرنے کی اجازت (Permission to Feel)

ڈاکٹر بریکٹ نے اپنی ذاتی زندگی کا ایک بہت متاثر کن واقعہ شیئر کیا۔ بچپن میں انہیں شدید بدسلوکی (Bullying) اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گئے اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ ان کے والدین پیار کرنے والے تھے لیکن ان کے پاس ان کے مسائل کا حل نہیں تھا۔ ان کی زندگی اس وقت بدلی جب ان کے "انکل مارون" نے ان سے پوچھا، "مارک، تم کیسا محسوس کر رہے ہو؟" اور پھر بنا کسی فیصلے (Judgment) کے ان کی بات سنی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ انہیں اپنے جذبات کو محسوس کرنے اور بیان کرنے کی اجازت ہے۔

جذباتی ریگولیشن اور حکمت عملی

گفتگو کا رخ اس جانب مڑا کہ جب ہم شدید جذبات (جیسے غصہ یا اضطراب) کا شکار ہوں تو کیا کریں۔ ڈاکٹر بریکٹ نے کہا کہ صرف یہ کہنا کہ "پرسکون ہو جاؤ" کام نہیں کرتا۔ اس کے بجائے ہمیں مختلف ٹولز کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے:

  • ذہین سانس لینا (Mindful Breathing): اعصابی نظام کو پرسکون کرنے کے لیے۔
  • فاصلہ پیدا کرنا (Distancing): اپنے مسئلے کو ایسے دیکھنا جیسے آپ کسی "گرم ہوا کے غبارے" (Hot air balloon) میں بیٹھ کر نیچے دیکھ رہے ہوں، یا اپنے بارے میں تھرڈ پرسن میں بات کرنا۔
  • مثبت توجہ (Positive Reframing): صورتحال کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا۔

جدید دور اور ٹیکنالوجی کا اثر

اینڈریو ہیوبرمین اور ڈاکٹر بریکٹ نے ڈیجیٹل کمیونیکیشن اور ٹیکسٹ میسجنگ کے نقصانات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹنگ میں جذباتی باریکیاں (Nuance) ختم ہو جاتی ہیں، جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور ہمدردی (Empathy) کم ہوتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر بریکٹ کے مطابق، آمنے سامنے کی گفتگو اور "Active Listening" تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔

خلاصہ: ایک بہتر زندگی کی کنجی

پوڈکاسٹ کے اختتام پر یہ بات سامنے آئی کہ جذباتی ذہانت ایک ایسی مہارت ہے جسے کسی بھی عمر میں سیکھا جا سکتا ہے۔ چاہے آپ والدین ہوں، ٹیچر ہوں، یا کسی کمپنی کے سی ای او، اپنے جذبات کو سمجھنا اور ان کا صحیح استعمال کرنا آپ کی کارکردگی، تعلقات اور ذہنی سکون کو ڈرامائی طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔ ڈاکٹر بریکٹ کا مشن یہی ہے کہ دنیا میں ہر بچے اور بڑے کو یہ "جذباتی تعلیم" فراہم کی جائے تاکہ وہ ایک صحت مند اور بھرپور زندگی گزار سکیں۔